‎اگر کوئی عورت تم سے یہ 2 چیزیں کبھی نہ مانگے تو سمجھ لینا کہ وہ تم سے جھوٹی محبت کرتی ہے... See more

 وہ شام عجیب سی تھی، جیسے ہوا بھی کچھ کہنا چاہ رہی ہو، اور وہ دونوں خاموش بیٹھے ایک دوسرے کی آنکھوں میں وہ سب پڑھ رہے تھے جو زبان نہیں کہہ سکتی تھی



، عائشہ نے اپنے گھنے بال پیچھے کیے تو علی کی نظریں جیسے اُس لمحے ٹھہر گئیں، اُس نے آہستہ سے اُس کا ہاتھ تھاما، اُنگلیوں کی پوروں پر اتنا نرم لمس تھا کہ جیسے دل نے دھڑکنا بھول گیا ہو، وہ لمحہ خاموش تھا مگر اندر شور برپا تھا، عائشہ نے نظریں جھکا لیں لیکن دل کی دھڑکن بلند ہو چکی تھی، علی نے اُسے تھوڑا قریب کیا، اُس کی خوشبو اُس کے دل تک اُتر رہی تھی، اُس نے عائشہ کی تھوڑی کو نرمی سے تھام کر اُس کے چہرے کی طرف دیکھا، اور آہستہ سے کہا: “محبت وہی ہے جو بغیر مانگے سب دے دے، لیکن اگر کبھی تم مجھ سے کچھ نہ مانگو، تو میں سمجھوں گا کہ تم مجھ سے سچی محبت نہیں کرتیں،” عائشہ نے ساکت لہجے میں صرف اتنا کہا: “تو پھر سن لو، میں تم سے دو چیزیں ہمیشہ مانگوں گی… تمہارا وقت، اور تمہاری مکمل توجہ…” علی مسکرایا، اور اُس کے ماتھے پر ایک ہلکا سا بوسہ دیا، پھر آہستہ آہستہ اُسے اپنی باہوں میں لیا، اُس کی کمر پر ہاتھ رکھا، اپنی ٹھوڑی اُس کے سر پر ٹکائی، اور اُسے خود سے ایسے لگا لیا جیسے کوئی ٹوٹا ہوا حصہ اپنے وجود سے جوڑ رہا ہو، اُن لمحوں میں نہ کوئی دنیا تھی، نہ وقت، صرف ایک جذبہ تھا جو ہر لمس میں چھپا ہوا تھا، علی کی انگلیاں اُس کی کمر پر حرکت کر رہی تھیں، نرمی سے، عزت کے ساتھ، اور اُس کا سینہ عائشہ کے گال کو چھو رہا تھا، دھڑکنیں سنائی دے رہی تھیں، جیسے دونوں کے دل ایک ساتھ دھڑک رہے ہوں، وہ رات خاموش گزری، لیکن ہر لمحہ بولتا رہا، وہ نہ کچھ زیادہ بولے، نہ کچھ کیا، لیکن اُن کے درمیان جو ہوا، وہ سچی محبت کا سب سے خوبصورت لمس تھا… ایک ایسا لمس جس میں ہوس نہیں، بلکہ حیا کی چادر میں لپٹی محبت تھی، اور وہ دونوں اُس رات یہ جان چکے تھے کہ اگر کسی عورت نے کبھی وقت اور توجہ نہ مانگی، تو سمجھو وہ صرف قربت چاہتی ہے، محبت نہیں… اور علی جان چکا تھا کہ عائشہ کی محبت سچی ہے، کیونکہ وہ اُس کے وجود سے زیادہ، اُس کی موجودگی کو چاہتی تھی


Comments

Popular posts from this blog