وہ شام عجیب سی تھی، جیسے ہوا بھی کچھ کہنا چاہ رہی ہو، اور وہ دونوں خاموش بیٹھے ایک دوسرے کی آنکھوں میں وہ سب پڑھ رہے تھے جو زبان نہیں کہہ سکتی تھی ، عائشہ نے اپنے گھنے بال پیچھے کیے تو علی کی نظریں جیسے اُس لمحے ٹھہر گئیں، اُس نے آہستہ سے اُس کا ہاتھ تھاما، اُنگلیوں کی پوروں پر اتنا نرم لمس تھا کہ جیسے دل نے دھڑکنا بھول گیا ہو، وہ لمحہ خاموش تھا مگر اندر شور برپا تھا، عائشہ نے نظریں جھکا لیں لیکن دل کی دھڑکن بلند ہو چکی تھی، علی نے اُسے تھوڑا قریب کیا، اُس کی خوشبو اُس کے دل تک اُتر رہی تھی، اُس نے عائشہ کی تھوڑی کو نرمی سے تھام کر اُس کے چہرے کی طرف دیکھا، اور آہستہ سے کہا: “محبت وہی ہے جو بغیر مانگے سب دے دے، لیکن اگر کبھی تم مجھ سے کچھ نہ مانگو، تو میں سمجھوں گا کہ تم مجھ سے سچی محبت نہیں کرتیں،” عائشہ نے ساکت لہجے میں صرف اتنا کہا: “تو پھر سن لو، میں تم سے دو چیزیں ہمیشہ مانگوں گی… تمہارا وقت، اور تمہاری مکمل توجہ…” علی مسکرایا، اور اُس کے ماتھے پر ایک ہلکا سا بوسہ دیا، پھر آہستہ آہستہ اُسے اپنی باہوں میں لیا، اُس کی کمر پر ہاتھ رکھا، اپنی ٹھوڑی اُس کے سر پر ٹکائی، اور اُسے خ...
Comments
Post a Comment